Print this page

ایک شادی کا رواج اتنا عام کیوں؟

پیر, 02 مئی 2016 14:49

ارتقاع کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پہلی نظر میں صرف ایک ہی جنسی ساتھی کا ہونا خاصا برا خیال دکھائی دیتا ہے۔

نر کا جنسی مادہ تا نطفہ بننے میں کوئی دیر نہیں لگتی اور نطفوں کی تعداد بھی کم نہیں ہوتی۔ اس لیے ایک ہی مادہ کے ساتھ تعلق جنسی سرمایہ کاری کے حوالے سے زیادہ سود مند دکھائی نہیں دیتا کیونکہ مادہ کو بچہ پیدا کرنے میں بہت وقت درکار ہوتا ہے۔

ایک ہی نر کی بجائے کئی نر ساتھیوں سے بچے پیدا کرنے میں مادہ کا بھی بھلا ہے، کیونکہ اگر اس کے بچوں کے والد مختلف ہوں گے تو کچھ بچے ان بیماریوں سے بچ جائیں گے جو اس کے کسی ایک نر میں تھیں۔

ارتھ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ مندرجہ بالا وجوہات کی وجہ سے گزشتہ سینکڑوں برسوں میں ایک ہی جنسی ساتھی کا رواج عام ہوتا گیا ہے۔م

یہ بات صرف جانوروں تک محدود نہیں، بلکہ انسانی معاشروں میں بھی ایک ہی جیون ساتھی کا رواج عام ہو چکا ہے، حالانکہ بہت سے معاشروں میں ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت موجود ہے۔

ایک اندازے کے مطابق 83 فیصد انسانی معاشروں میں ایک سے زیادہ شادی کی اجازت ہے، لیکن پھر بھی مرد ایک ہی شادی کرتے ہیں جس کی بڑی وجہ وسائل کی کمی ہوتی ہے۔

تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک شادی بظاہر کوئی اچھا خیال نہیں ہے، پھر بھی زیادہ تر معاشروں میں ایک ہی شادی کا رواج کیوں ہے۔

ایک تازہ ترین تحقیق نے اس سوال کا ممکنہ جواب فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ماہرین کی اس ٹیم نے سائنسی جریدے ’نیچر کمیونیکیشن‘ میں ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ان کے خیال میں گزشتہ صدیوں کے دوران پھیلتی ہوئی انسانی آبادیوں کو ایک ہی شادی پر جس چیز نے مجبور کیا وہ جنسی تعلق کے ذریعے سے منتقل ہونے والے امراض (ایس ٹی آئی) کا خوف تھا۔

اس تحقیق کے مطابق آج سے تقریباً آٹھ ہزار سال پہلے جب انسان نے صرف شکار اور جنگل سے خوراک جمع کرنے کے دور سے آہستہ آہستہ زراعت کی جانب سفر کیا اور گھوم پھر کر خوراک اکھٹی کرنے کی بجائے زمین سے فصل اگانا شروع کیا تو ایک ہی شادی کا دستور تیزی سے پھیلنا شروع ہو گیا۔ یوں ایک سے زیادہ بیویوں کا رواج آہستہ آہستہ ختم ہوتا گیا۔

ماہرین کی اس ٹیم کا خیال یہ ہے کہ ایک ہی شادی کے رواج کی کو معاشرے نے انسان پر لاگو کیا، اور صاف ظاہر ہے کہ ایسا کرنے میں معاشرے کو بہت سا وقت اور توانائی صرف کرنا پڑی ہو گی۔

ماہرین کی اس ٹیم کے سربراہ کرس باچ کے بقول ’کیونکہ اگر آپ سمجھتے ہیں کوئی انسانی رویہ درست نہیں ہے تو پہلے آپ اس کے خلاف احتجاج کرتے ہیں اور پھر ایسے ادارے بناتے ہیں جو اس منفی رویے کا تدارک کرتے ہیں۔ مثلاً جرائم کو روکنے کے لیے ہمیں پولیس میں سرمایہ کاری کرنا پڑتی ہے۔

انسانوں نے اپنی برادری یا گروہ کے دوسرے انسانوں پر ایک شادی کا اطلاق کیوں کیا، اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے مسٹر باچ نے جرمنی کے ماہر بشریات رچرڈ میکریتھوف کے ساتھ رابطہ کیا۔

رچرڈ میکریتھوف کہتے ہیں کہ ’اس کی وجہ خاصی دلچسپ دکھائی دیتی ہے کیونکہ ہم انسان طویل عرصے سے تک ایک سے زیادہ جنسی ساتھیوں کے قائل رہے ہیں۔ تاہم کھیتی باڑی کے دور کے شروع ہونے کے بعد معاشرتی سطح پر ایک ہی شادی کی پابندی کا اطلاق ہونا شروع ہوگیا۔‘

رچرڈ میکریتھوف کا نظریہ کچھ یوں ہے۔

شکار اور خوارک جمع کرنے والے انسانی گروہوں میں 20 سے 30 بالغ مرد ہوتے تھے، اس لیے جنسی بیماریاں (ایس ٹی آئی) کوئی بڑا خطرہ نہ تھا۔ اگر ان میں سے کچھ مرد عورتوں کے ساتھ اِدھر اُدھر سو بھی رہے تھے تو انھیں اس بات کے مواقع کم ہی ملتے تھے کہ وہ اپنے علاقے سے دور دراز جا کر دوسروں گروہوں میں بھی بیماریاں پھیلا سکتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ آخر کار یہ بیمایاں اسی گروہ کے اندر ہی ختم ہو جاتی تھیں۔

مسٹر باچ کے بقول ’یوں چھوٹے گروہوں میں جنسی بیماریاں جڑیں نہیں پکڑ سکتی تھیں۔‘

اس کے برعکس زرعی معاشروں میں آبادی تیزی سے پھیلنا شروع ہو گئی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگر وہاں کوئی بیماری پھیلتی تو وہ بہت تیزی سے پھیل جاتی اور یوں وبا کی شکل اختیار کر لیتی۔ یوں معاشرے میں جنسی امراض کے مسلسل موجود رہنے کا خطرہ رہتا۔

مسٹر باچ اور مسٹر میکریتھوف کہتے ہیں کہ بڑی آبادیوں میں ایک ہی شادی پر زور دینے کی وجہ یہی رہی ہوگی اور ان معاشروں میں ایک سے زیادہ شادی کرنے والے کو سزا دینے کی اصل مقصد ان لوگوں کو سزا دینا تھا جو بیماریاں پھیلانے کا سبب بن رہے تھے۔

لیکن تمام ماہرین اس نظرے سے اتفاق نہیں کرتے۔

یونیورسٹی کالج لندن سے منسلک ایک ٹیم نے سنہ 2013 میں ایک تحقیق شائع کی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی شادی پر زور دینے کی اصل وجہ گروہ کی آبادی میں مسلسل اضافہ کرنا تھا۔

اس ٹیم کے خیال میں ایک ہی شادی کو رواج ایک سازش کے تحت دیا گیا ہے۔

اگر بچے پیدا کرنے والا شوہر بچوں کے ساتھ رہے تو وہ ان کی حفاظت بہتر انداز میں کر سکتا ہے، کیونکہ مخالف گروہ کا مرد ان بچوں کو ہلاک کر سکتا ہے تاکہ ان بچوں کی مائیں ایک مرتبہ پھر بچے پیدا کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔

’وہ مرد جو ایک جگہ نہیں ٹِکتے تھے ان کے بہت سارے بچے نہیں ہوتے کیونکہ مخالف گروہ والے ان کے کم سِن بچوں کو مار دیتے تھے۔ اگرچہ اس کا نقصان عورت کو بھی ہوتا، لیکن مرد کے لیے اس کے نتائج تباہ کن ہوتے۔

قصہ مختصر، لندن یونیورسٹی کی ٹیم کے خیال میں انسانی تاریخ میں ایک ہی شادی کے رواج کی اصل وجہ کم سن بچوں کا مارے جانا تھا۔

ماہرین کے ان دونوں گروہوں کے برعکس ایک تیسرے گروہ کا خیال ہے کہ ایک ہی شادی کے عام ہونے کی وجہ وراثت کے مسائل ہو سکتی ہے۔

’ زرعی معاشروں میں زمین آہستہ آہستہ کم پڑنا شروع ہو گئی۔ بہت سے بیویوں اور بچوں میں اس زمین کو مزید تقسیم کرنے کا نتیجہ یہ نکلتا کہ زمین کم پڑ جاتی۔ ایک ہی شادی نے یہ مسئلہ حل کر دیا، کیونکہ یوں آپ کی زمین کے حقدار صرف آپ کی ایک بیوی اور آپ کے حقیقی وارث ہوتے ہیں اور آپ کی جائیداد تقسیم ہونے سے محفوظ رہتی ہے۔‘

یونیورسٹی آف کیمبرج سے منسلک ماہر ڈیٹر لوکاسوف کہتے ہیں کہ وہ جنسی امراض اور ایک شادی کے درمیان تعلق کے حوالے سے کی جانے والی تحقیق سے اتفاق نہیں کرتے۔

ڈیٹر لوکاسو کے خیال میں اس تحقیق میں یہ واضح نہیں ہوتا کہ قدیم معاشروں میں ایسے ’دھوکے باز‘ مردوں کے ساتھ کیا ہوتا تھا جو ایک سے زیادہ خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے کو ترجیح دیتے ہوں گے۔

’اس قسم کے دھوکے بازوں کے لیے ایس ٹی آئی کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوتا ہوگا کیونکہ ان کی کوشش تو یہی ہو گی کہ اس بیماری کے ہاتھوں نامرد ہونے یا ہلاک ہونے سے پہلے وہ جتنے زیادہ بچے پیدا کر سکیں کر لیں۔‘

مندرجہ بالا نظریات کے علاوہ ایک شادی کے بارے میں کئی دیگر نظریات بھی پائے جاتے ہیں، جن میں ایک نظریہ مادہ کے درمیان مقابلہ بازی اور اپنے نر کو دوسری مادہ سے بچائے رکھنا کا نظریہ بھی ہے۔

اس بحث کو سمیٹتے ہوئے مسٹر باچ کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں اِس نظریے کو رد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

’ دنیا میں اتنے مختلف رسم و رواج کو نظر میں رکھیں تو لگتا ہے کہ دیگر انسانی رویوں کی طرح ایک شادی کے فروغ پانے کی ممکنہ وجوہات بھی ایک سے زیادہ ہو سکتی ہیں۔

Read 682 times