نانگا پربت دہشت گرد حملے میں محفوظ رہنے والا شخص قرضے کی ادائیگی کے لیے گردہ بیچنے پر مجبور

اتوار, 05 جون 2016 12:01

نانگا پربت پر کوہ پیماؤں کے کیمپ پر دہشت گرد حملے کے دوران محفوظ رہنے والا شخص قرضے کی ادائیگی کیلئے گردہ بیچنے پر مجبور ہوگیا۔

ہنزہ کے علاقے علی آباد کا 45 سالہ رہائشی افسرجان چائے کا کھوکھا چلاتا ہے، حملے کے وقت وہ کوہ پیماؤں کے کیمپ میں باورچی کے طور پر کام کررہا تھا، افسرجان کے مطابق دہشت گرد غیر ملکی کوہ پیماؤں کی تلاش میں تھے اس لیے اس کی جان بچ گئی۔

افسر جان کا کہنا ہے کہ اس کی بیوی کا 2013 میں دل کا آپریشن ہوا تھا۔ اس کے بھائی نے ابتدائی طور پر تو اسپتال کے بل قسطوں میں ادا کیے تاہم بعد میں اس نے بھی معذوری ظاہر کردی، جو کچھ تھا بیوی کے علاج پر خرچ کردیا، قرضہ ادا کرنے کیلئے گردہ فروخت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

واضح رہے کہ 22 جون 2013 کو 16 حملہ آوروں نے پاکستان کی دوسری بلند ترین چوٹی نانگا پربت کے بیس کیمپ پر حملہ کر کے 10 غیر ملکی کوہ پیماؤں اور ان کے ایک مقامی گائیڈ کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

Read 672 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Pakistanviews.org

pakistanviews.org stands as a website enlightening the masses with all information related to current affair, entertainment, sports, technology, etc. It has been brought into existence to ensure that voice of Pakistan reaches the masses. Ensuring that a true picture of Pakistan is portrayed in the right manner to the world. The website is to bring forth the real picture of Pakistan negating avenues of Terrorism and Non-State Acto