ترک صدر اردگان کے محل میں کتنے کمرے ہیں اور تیاری پر کل کتنی لاگت آئی؟ جان کر یقین نہیں آئے گا

منگل, 18 اپریل 2017 21:50

انقرہ: ترکی کی تاریخ کے مضبوط ترین حکمران صدر رجب طیب اردگان کئی حوالوں سے دنیا بھر میں شہرت رکھتے ہیں۔ اب ان کی لگژری زندگی بھی عالمی میڈیا میں موضوع بحث بن چکی ہیں اور ان کے عالیشان صدارتی محل کی ایسی تفصیلات سامنے آگئی ہیں کہ آپ کے لیے یقین کرنا مشکل ہو جائے گا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق دارالحکومت انقرہ کے مضافاتی علاقے میں تعمیر کیا گیا رجب طیب اردگان کا صدارتی محل امریکہ کے وائٹ ہاﺅس سے بھی 30 گنا بڑا ہے۔ اس میں 1100کمرے ہیں جن میں سے 250 کمرے صرف رجب طیب اردگان اور ان کی فیملی کے تصرف میں ہیں۔


اس محل کی تعمیر 3سال قبل مکمل ہوئی تھی اور صرف اس کی تعمیر پر 50کروڑ پاﺅنڈ (تقریباً 65ارب70کروڑ روپے) لاگت آئی تھی۔اس میں اعلیٰ پائے کا سنگ مرمر کا فرش بنایا گیا ہے۔ کئی جگہ سونے کا استعمال کیا گیا ہے اور کئی ایکڑ تک سرخ قالین بچھائے گئے ہیں۔ اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ گزشتہ 100سال میں دنیا میں بنائے جانے والے محلات میں یہ سب سے بڑا محل ہے۔ اس میں بچھائے گئے قالینوں کی قیمت 70لاکھ پاﺅنڈ (تقریباً 92کروڑ روپے) ہے جبکہ اس کے 10فٹ بلند 400دروازے 50لاکھ پاﺅنڈ (تقریباً 65کروڑ 70لاکھ روپے) میں تیار ہوئے۔


محل میں ترک صدر اور ان کی فیملی کے زیراستعمال کمروں کوایک موسم سرما میں گرم رکھنے پر 5لاکھ پاﺅنڈ (تقریباً 6کروڑ 56لاکھ روپے) خرچ اٹھتا ہے۔دوسری طرف استنبول کی باچیسر یونیورسٹی (Bachesir University)کی تحقیق کے مطابق ترکی میں ہر تین میں سے دو بچے انتہائی غربت میں پرورش پارہے ہیں جبکہ ملک کی 20لاکھ سے زائد آبادی 3پاﺅنڈ (تقریباً 394روپے) روزانہ میں گزراوقات کر رہی ہے۔

 
 
Read 681 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Pakistanviews.org

pakistanviews.org stands as a website enlightening the masses with all information related to current affair, entertainment, sports, technology, etc. It has been brought into existence to ensure that voice of Pakistan reaches the masses. Ensuring that a true picture of Pakistan is portrayed in the right manner to the world. The website is to bring forth the real picture of Pakistan negating avenues of Terrorism and Non-State Acto