حقوق زوجیت ادا نہ کرنے پر بیوی نان و نفقہ کی حقدار نہیں، سپریم کورٹ
لاہور: سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ حقوق زوجیت ادا کرنے کی صورت میں ہی بیوی نان و نفقہ کی حقدار ہے۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں فیصل آباد کی رہائشی خاتون عنبرین اکرم کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ شوہر نے نکاح کے دو سال بعد طلاق دے دی تاہم نکاح کے بعد رخصتی نہیں ہوئی تھی، عدالت عنبرین کے شوہر سے نکاح سے طلاق کے عرصے تک کا خرچہ دلوائے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر نکاح کے بعد لڑکی کی رخصتی ہی نہیں ہوئی تو وہ خرچے کا دعوی کیسے کر سکتی ہے، حقوق زوجیت ادا کرنے کی صورت میں ہی بیوی نان و نفقہ کی حقدار ہے، رخصتی نہ ہونے پر بیوی نان نفقہ کی حقدار نہیں۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ رخصتی نہ ہونے پرعدالت کس قانون کے تحت میاں بیوی کو اکٹھا رہنے پر مجبور کرسکتی ہے، میاں بیوی کو جبری اکٹھا رکھنے کا تجربہ اچھا نہیں اس سے زیادہ گھمبیر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ عدالت نے عنبرین اکرم کی درخواستِ نان نفقہ خارج کردی۔